بنگلورو،30؍اگست (ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اپوزیشن لیڈر سدرامیا نے کہا کہ ریاست کی مالی حالت بہت خراب ہوچکی ہے۔ ریاست معاشی بدحالی پر قابوپانے کے لئے مختلف راستے تلاش کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی ائی) قرض حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آربی ائی سے قرض حاصل کرنے کی بجائے ریاستی حکومت مرکزی حکومت سے کی ایس ٹی میں ریاست کا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ سدارامیا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔ ریاست اور مرکز میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ریاست کی بی جے پی حکومت کی ایس ٹی میں ریاست کا جائز حصہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر مالیات بسوراج بومئی نے خود اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کے مشکل حالات اور لاک ڈاؤن کے باوجود رواں سال ریاست میں 71.61 فیصد جی ایس ٹی وصول ہوا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت اس میں ریاست کا حصہ 13764 کروڑ روپئے اب تک ادا نہیں کئے ہیں۔ سدارامیا نے کہا کہ ریاست کو مرکزی حکومت سے 13 ہزار کروڑ نہیں بلکہ 27 ہزار کروڑ روپئے باقی ہیں۔ مرکزی حکومت ریاست کے ساتھ نا انصافی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 ویں فائنانس کمیشن کی رپورٹ میں بھی کرناٹک کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے اور ریاست کو اس کے جائز حصہ سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں حصہ ریاست کا آئینی حق ہے، اس کو حاصل کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔ ریاستی حکومت مرکز پر دباؤ ڈالنے کی بجائے آسان راستے تلاش کر رہی ہے۔ معاشی بدحالی پر قابو پانے کے لئے آربی ائی سے قرض لینے پر غور کر رہی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ کسی بھی حالت میں آربی ائی سے قرض لینا مناسب نہیں ہوگا۔